Skip to main content

پروفیسر اور جوتے پالش کرنے والا بچا

پروفیسر اور جوتے پالش کرنے والا بچا

AI Photo



ایک دن پروفیسر صاحب  سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا 

 ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘

 پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا

 ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘

بچے کا اگلا سوال تھا


’’کیسے؟‘‘


پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکےکھوکھے کی دیوار پر

دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘


پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘


دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا


اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر )Skill( لکھا۔


بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا:


ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘


پہلا زینہ محنت ہے.

 آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے.

آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘


 آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔


 پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں".


اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے.


ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے.


وعدے کی پابندی‘  جھوٹ سے نفرت‘  زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔


آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘


زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘


تم ایماندار ہو جاؤ گے۔


کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے.


آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے.


اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے.


آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا.


"آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘.


پروفیسر نے بچے کو بتایا۔


 ’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں.


لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔


آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘

ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا'

آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘۔


پروفیسر نے بچے کو بتایا۔


 "میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘


 کیوں؟


کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی'


 اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘-


’تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘

 تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے‘‘۔



Comments

Popular Posts

پاکستانی عوام کو بجلی کا ایک یونٹ 5 ہزار روپئے میں بیچا جا رہا ہے

بجلی بلوں میں پروٹیکٹ اور نان پروٹیکٹ کیٹگری کا فرق  بجلی کے بلوں میں پروٹیکٹ اور نان پروٹیکٹ کیٹگری کا فرق سمجھیں  اس سسٹم سے بجلی صارفین کو بجلی کا ایک یونٹ 5 ہزار روپئے میں بیچا جا رہا ہے  ۔یہ دو بل غور سے دیکھیں ۔۔ اس سے آپ کو واضح پتا چل جاۓ گا جے آپ کو بجلی کا ایک یونٹ 5 ہزار کا بیچا جا رہا ہے جو کے آپ کو اگلے 6 ماہ تک مزید تیس ھزار اضافی بل دینے پر مجبور کر دے گا ۔ BILL NO 1  UNIT USE 200 HUNDRED  Bill= 3083 BILL NO 2 UNIT USE 201 Bill 8154 200 Units Bill 3083 201 Units Bill 8154 فرق        5071 مطلب ایک یونٹ زیادہ یوز کرنے کی صورت میں آپ کا بل 5071 روپے زیادہ آسکتا ہے یہ اس غریب عوام کے زیادتی ہے ۔ ہے کوئی جو اسکا نوٹس لے مزید یہ کے یہ ریٹ آپ کو اگلے 6 ماہ تک مسلسل بھرنا ہوگا مطلب ایک یونٹ آپ کو 30000 ہزار کا پڑتا ہے پروٹیکٹ کیٹگری اگر آپ کا بجلی کا یوز مسلسل 6 ماہ تک 200 یونٹس سے کم ہے تو آپ پروٹیکٹ کیٹگری میں ہیں ۔ پروٹیکٹ کیٹگری دو قسم کی ہے ایک وہ جن کا بجلی کا یوز 6 ماہ تک 1 سے 100 یونٹ تک ہے انکو دو ریٹ چارج کئے جاتے ہیں اس کیٹگ...