Skip to main content

Posts

Showing posts from January 24, 2025

پروفیسر اور جوتے پالش کرنے والا بچا

پروفیسر اور جوتے پالش کرنے والا بچا AI Photo ایک دن پروفیسر صاحب  سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا   ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘  پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا  ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘ بچے کا اگلا سوال تھا ’’کیسے؟‘‘ پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکےکھوکھے کی دیوار پر دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘ پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘ دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر )Skill( لکھا۔ بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا: ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘ پہلا زینہ محنت ہے.  آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے. آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘  آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔  پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں...

Grand Operation against Anti Theft in HESCO Tando Adam

Grand Operation against Anti Theft in HESCO Tando Adam 24-01-2025

Carl Maix

Carl Maix مارکس دنیا کا واحد شخص تھا ، جس پر یورپ کے تمام چرچوں اور پادریوں نے کفر کا فتویٰ ٹھوکا۔ مارکس کو یورپ کے تمام یہودی مذہبی پیشواؤں نے خارج المذہب قرار دیا۔ پیسوں کے عوض جنت کے ٹکٹ فروخت کرنے والے استحصالی پادریوں نے فتوی دیا کہ جو بھی مارکس کو قتل کرے گا، وہ جنت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔ اٹھارویں صدی کے انتہائی قدامت پسند یورپین معاشرے میں اپنے نظریات کی وجہ سے مارکس نے 15 سال ایک چھوٹے سے کمرے میں بند ہو کر گزارے تھے۔ مارکس دنیا کا واحد سٹیٹ لیس شخص تھا کہ جب اسکا انتقال ھوا تو دنیا کا کوئی بھی ملک اس کو اپنانے یا اپنے ہاں دفنانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ مارکس ایک حقیقت پرست، مادیت پسند، سچا اور عظیم انسان و دنیا کی 1000 سالہ تاریخ کا بااثر ترین فلسفی تھا۔ مارکس دنیا کا واحد فلسفی ہے جس نے سرمایہ دار و جاگیردار طبقے کے ساتھ ساتھ اس پرولتاریہ طبقے پر بھی تنقید کی، جس کے لئے اس نے ساری دنیا کی دشمنی مول لی تھی۔ مارکس کے دو بچے پیسے نہ ہونے اور علاج کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے اس دار فانی سے کوچ فرما گٸے۔ بالآخر ممتا سے مجبور کارل مارکس کی بیوی جینی بھوک سے بلکتے ...